
Chapitre 6 sur 9
Cinquième strophe
Fifth Stanza
پانچواں بند
افسوس دنیا میں بہت تم پر ہوئے جور و جفاحق تلفیاں تم نے سہیں، بے مہریاں جھیلیں سدا
اکثر تمہارے قتل پر، قوموں نے باندھی ہے کمردیں تا کہ تم کو یک قلم، خود لوحِ ہستی سے مٹا
گاڑی گئیں تم مدتوں، مٹی میں جیتی جاگتیحامی تمہارا تھا نہ یاور، کوئی جز ذاتِ خدا
زندہ سدا جلتی رہیں، تم مردہ خاوندوں کے ساتھاور چین سے عالم رہا یہ سب تماشے دیکھتا
بیاہی گئیں اس وقت تم، جب بیاہ کو واقف نہ تھیںجو عمر بھر کا عہد تھا، وہ کچے تاگے سے بندھا
بیاہا تمہیں ماں باپ نے، اے بے زبانو! اس طرحجیسے کسی تقصیر پر، مجرم کو دیتے ہیں سزا
گزری امید و بیم میں، جب تک رہا باقی سہاگبیوہ ہوئیں تو عمر بھر، پھر چین قسمت میں نہ تھا
تم سخت سے سخت امتحاں، دیتی رہیں پر رائیگاںکیں تم نے جانیں تک فدا، کہلائیں لیکن بے وفا
گو صبر کا اپنے نہ کچھ، تم کو ملا انعام یہاںپر جو فرشتہ سے نہ ہو، وہ کر گئیں تم کام یہاں
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.