
Capítulo 5 de 9
Cuarta estrofa
Fourth Stanza
چوتھا بند
لیتیں خبر اولاد کی، مائیں نہ چھٹپن میں یہاںخالی کبھی کا نسل سے، آدم کی ہو جاتا جہاں
یہ گوشت کا اک لوتھڑا، پروان چڑھتا کس طرحچھاتی سے لپٹائے نہ ہر دم، رکھتی گر بچے کو ماں
وہ دین اور دنیا کے مصلح، جن کے وعظ و پند کیظلمت میں باطل کی ہوا، دنیا پہ نورِ حق عیاں
وہ علم اور حکمت کے بانی، جن کی تحقیقات سےظاہر ہوئے عالم میں اسرارِ زمین و آسماں
وہ شاہِ کشور گیر اسکندر، کہ جس کی دھاک سےتھے بید کی مانند لرزاں، تاجدارانِ جہاں
وہ فخرِ شاہانِ عجم کسریٰ، کہ جس کے عدل کیمشرق سے تا مغرب زبانوں پر ہے جاری داستاں
کیا پھول پھل یہ سب انہیں، گر نور پروؤں کے نہ تھےسینچا تھا ماؤں نے جنہیں، خونِ جگر سے اپنے یاں
کیا صوفیانِ باصفا، کیا عارفانِ باخداکیا انبیا، کیا اولیا، کیا غوث کیا قطبِ زماں
سرکار سے مالک کی جتنے پاک بندے ہیں بڑھےوہ ماؤں کی گودوں کے زینے سے ہیں سب اوپر چڑھے
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.